Nohay 2021

Nohay Lyrics 2021

Manqabat 2020

https://www.humaliwalayazadar.com/2020/08/new-nohay-2021.html
''''''''''''''

Aik Shab Khuwab Mein Jab Naat Lyrics Farhan Ali Waris 2020


ایک شب خواب میں جب میں نے مدینہ دیکھا نُور برساتا ہُوا گنبدِ خضرا دیکھا کیسی گلیاں تھیں جہاں کھیلے حَسن(ع) اور حُسین(ع) عید پر ان کی سواری تھے رسولِ ثقلین(ص) عشق کے نور سے وہ سارا علاقہ دیکھا میں وہاں دورِ پعیمبر(ص) کے خیالات میں تھا صحنِ مسجد سے ہی رستہ تھا نبی(ص) کے گھر کا شُکر کا کیا سجدہء خُلد کا ٹکڑا دیکھا (ریاض الجنّہ) ° صحنِ مسجد تھا وہ ممبر وہ چٹائی وہ دَری دَرس سُنتے تھے جہاں بیٹھ کے اصحابِ نبی میں نے اس خواب میں منظر یہ سہانا دیکھا ناقہ ٹھہرا تھا جہاں خواب میں دیکھا وہ مکاں طَلَعَل بَدرُ عَلَینَا کی صدائیں تھیں جہاں تھا جہاں جشنِ نبی(ص) سارا وہ خطہ دیکھا ° جس جگہ آئے پعمبر(ص) بھی سلامی کے لئے اُس جگہ مانگی دُعا میں نے غلامی کے لئے بھیگی آنکھوں سے مسلسل درِ زہرا(س) دیکھا چلتے چلتے جو بقیّہ کے قریں میں پہنچا اشک بہنے لگے پھر ضبط کا یارا نہ رہا قبرِ زہرا(س) پہ وہاں میں نے نہ سایا دیکھا میں بقیع پہنچا تو روتے ہوئے میں نے دیکھا قبر اُس کی ہے کڑی دھوپ میں اور بے سایہ جس کے بابا(ص) کا کسی نے نہیں سایہ دیکھا شہرِ سرور(ص) میں جو سجتا تھا حسن(ع) کا صُفرا فیض اسطرح یہ نانا(ص) سے نواسے کو ملا ان کے ٹکڑوِں پہ وہاں سب کا گزارا دیکھا کیا کہوں روضے کی جالی سے میں لپٹا ایسے جیسے بچّہ کوئی مادر کے کلیجے سے لگے اپنی تقدیر کو میں نے بڑا اونچا دیکھا پھر میرے دِل نے کہا موقع یہ اچھا ہے بڑا اپنے سرکار(ص) کو سرکار(ص) کی نعتیں تو سُنا اپنی آواز میں حسّان کا لہجہ دیکھا تھی مدینے کی حسیں مظہر و فرحان وہ رات رو برو روضہء سرکار کے تھی محفلِ نعت عرش سے فرش تلک نور بکھرتا دیکھا
https://www.humaliwalayazadar.com/2020/08/new-nohay-2021.html
''''''''''''''

Hamare Hain Mohammad Naat Lyrics Farhan Ali Waris 2020

ہم اُن کے ازل سے ہیں ہمارے ہییں محمّد(ص) ہمارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص) ========= (1) ========= وہ آنکھیں ہیں ولیل تو والشمس ہے چہرہ وہ زُلف شبِ قدر وہ ابرو ہیں سویرا اللّٰہ(ج) نے کچھ ایسے سنوارے ہیں محمّد(ص) ہمارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص) ========= (2) ========= سب ہی تیری آمد پہ منانے لگے خوشیاں نعلین کے تُغرے کہیں گلیوں میں چراغاں دو جگ کی زباں پر یہی نعرے ہیں محمّد(ص) ہمارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص) ========= (3) ========= نبیوں(ع) کی کروں باے یا ولیوں(رح) کی کروں بات اپنوں کی کروں بات یا غیروں کی کروں بات ہر دور میں ہر شخص کو پیارے ہیں محمّد(ص) ہمارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص) ========= (4) ========= وہ زینب(س) و کلثوم(س) وہ شبّیر(ع) وہ شبّر(ع) داماد علی(ع) تیرا تو زہرا(س) تیری دُختر یہ سب تیرے آنگن کے ستارے ہیں محمّد(ص) ہمارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص) ========= (5) ========= ییغامِ خدا(ج) لے کے تیرے دَر پہ جو آیا اکثر تیری دہلیز پہ یہ جبریل(ع) نے سوچھا پیغام کسے دُوں کے یہ سارے ہیں محمّد(ص) ہمارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص) ========= (6) ========= بھیجے تیری توصیف میں خالق نے صحیفے حسّان و فرزدق نے لکھے کتنے قصیدے سلمان(ع) و ابوذر(رض) یہ پُکارے ہیں محمّد(ص) ہمارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص) ========= (7) ========= وہ بوذر(رض) و سلمان(ع) ہوں یا مظہر و فرحان پڑھتے ہیں شب و روز تیرے عشق کا قُرآن لفظوں کے تیرے سمت اشارے ہیں محمّد(ص) مارے ہیں محمّد(ص) - ہمارے ہیں محمّد(ص)
https://www.humaliwalayazadar.com/2020/08/new-nohay-2021.html