Taboot Uth Raha Hai Noha Lyrics Mir Hasan Mir 2019

jjjjjj
پھر فاطمہ کے گھر میں فرش عزاء بچھا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

کرب وبلا کا زخمی یثرب میں چل بسا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

ہائے زیرِ کفن بھی اسکی آنکھوں سے خون ہے جاری
یاد آرہی ہے غربت سجاد کو پدر کی
روضے سے مصطفےٰ کے اعلان ہورہا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

ہائےباقر سے کی رہا تھا سادات کا گھرانہ
پہلو میں نانا جاں کے میت نہ لے کے جانا
پہلے بھی ایک جنازہ گھر واپس آچکا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

ہائے اب تو مدینے والو تم کو سکون رہے گا
روئے گا اور نہ اس کی آنکھوں سے خون بہے گا 
بابا کو رونے والا خاموش ہو گیا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

میت کے آگے آگے کوئی کوئی یہ کہہ رہا تھا
بازار سے نہ گزرے سجاد کا جنازہ
بازار کو یہ قیدی ہوتا ہوا گیا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے


ارے مارا ہے ظالم نے اس طرح سے زہر دے کے
کٹ کٹ کے باہر آئے اس کے جگر کے ٹکڑے
پہلو پہ فاطمہ کے پھر ذخم اک لگا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

تابوت سے لپٹ کر کہتی ہے کوئی بچی
زندان سے آئی ہے بھیا بہن تمہاری
آنکھیں تو کھول لو اب سر پر میرے ردا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

اکبر جو لاش فضا دفنا کے اٹھے مولا
ہائے آئی صدائے زینب باقر وطن چلا جا
سجاد کا جنازہ تیار ہوگیا ہے
بیمار کربلا کا تابوت اُٹھ رہا ہے

ppppppp
Next Article
« Prev Post
Previous Article
Next Post »