Pursa Hussain Ka Noha Lyrics Mir Hasan Mir 2019

ads1

حی علی خیرالعمل یا حسین ؑ زہراؑ قبول کیجئے پرسہ حسینؑ کا پیاسے کا بے وطن کا شہ مشرقین کا جب ماہِ محرم نے خبر غم کی سنا دی رُخ کر کے بقیہ کا یہ مومن نے صدا دی تشریف لائیں فرشِ عزا شہؑ کا بچھ گیا مظلوم ؑ کے غم میں ہوئی مغموم خدائی پھر نام پہ پیاسوں کے سبیلیں ہیں لگائی گھر گھر میں ہے حسینؑ کی غربت کا تذکرہ ہر موڑ پہ ڈھارس جو رہا بنتِ علیؑ کی وہ جس کی شہادت پہ کمر شہ ؑ کی جھکی تھی اس شیر کے کٹے ہوئے شانوں کا واسطہ آئی جو مدینے میں وہ زنداں سے پلٹ کر گھر جانے سے پہلے گئی مادر کی لحد پر زینبؑ نے ماں کی قبر پہ دی پہلی یہ صدا غازیؑ کو اسی ماں نے سکھائیں تھی وفائیں بیٹوں کے لئے بھرتی بھلا کیسے وہ آہیں نوحہ تھا یہ بقیہ میں اُم البنین ؑ کا پردیس میں امت نے جسے زخم دیئے ہیں اک دن میں جسے داغ بہتر ۷۲کے ملے ہیں اُس پر سلام جس کا بھرا گھر اُجڑ گیا جینے نہ دیا اُس کو مسلمانوں نے بی بی پالا تھا جسے آپ نے ارمان سے بی بی ہائے رُلا رُلا کے اُسے ذبح کر دیا مظلوم ؑکی گردن پہ وہ چلتا ہوا خنجر خوںان کو رُلاتا ہے تکلم ؔیہی منظر دادی کی اجڑی قبر پہ مہدی ؑ کا ہے نوحہ

ads2
Socializer
SOCIALIZE IT →
FOLLOW US →
SHARE IT →